صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۸ - اذان والی مسجد کی نماز اور قدموں کا اجر
اذان والی مسجد میں نماز اور ہر قدم کا اجر
صحیح مسلم : ۱۴۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۸۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ ، أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا ، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى ، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ، كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، لَضَلَلْتُمْ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً ، وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا ، إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ ، يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ " .
عبداللہ روایت:
جس کو خوش لگے کہ اللہ سے ملاقات کرے قیامت کے دن مسلمان ہو کر تو ضروری ہے کہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جہاں اذان ہوتی ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے طریقے مقرر کر دئیے اور یہ نمازیں بھی انہیں میں سے ہیں۔اگر تم ان کو گھر میں پڑھو جیسے فلاں جماعت کا چھوڑنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو بے شک تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑ دیا۔ اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑا تو بے شک تم گمراہ ہو گئے اور کوئی ایسا نہیں ہے کہ طہارت کرے اور اچھی طہارت کرے۔ پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ارادہ کرے مگر اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم پر کہ وہ رکھتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک بدی گھٹاتا ہے اور ہم اپنے تئیں ایسا دیکھتے تھے کہ جماعت سے غیر حاضر نہیں ہوتا تھا مگر منافق جس کا نفاق کھلا ہوتا تھا اور آدمی دو شخصوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا تھا یہاں تک کہ صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۸ کا خلاصہ
یہ روایت نماز باجماعت اور مسجد میں حاضری کے بارے میں بہت جامع تعلیم دیتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص قیامت کے دن مسلمان ہو کر اللہ سے ملنا چاہے، وہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جہاں اذان دی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نمازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر لوگ انہیں گھروں میں پڑھنے لگیں جیسے جماعت چھوڑنے والا گھر میں پڑھتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑ بیٹھیں گے۔ پھر مسجد جانے والے کے لیے ہر قدم پر نیکی، درجہ کی بلندی، اور گناہ کی کمی کا ذکر آیا ہے۔ اس حدیث میں نماز باجماعت، مسجد تک چل کر جانا، اذان والی مسجد، اور سنت نبوی جیسے اہم موضوعات صاف طور پر موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان والی جگہ نماز کی حفاظت بہت اہم ہے۔
- مسجد کی جماعت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے جوڑا گیا ہے۔
- مسجد کی طرف ہر قدم پر اجر کا ذکر آیا ہے۔
- صحابہ جماعت چھوڑنے کو سخت ناپسند سمجھتے تھے۔
