صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۷ - مسجد میں نماز سنت ہدایت ہے
مسجد میں نماز پڑھنا سنت ہدایت ہے
صحیح مسلم : ۱۴۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنَ الصَّلَاةِ ، إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ ، أَوْ مَرِيضٌ ، إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، حَتَّى ي?أْتِيَ الصَّلَاةَ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ ، الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ " .
عبداللہ روایت:
ہم لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نماز باجماعت سے پیچھے نہیں رہتا مگر منافق (یعنی تارک الجماعت کو ہم منافق جانتے ہیں) کہ جس کا نفاق کھلا ہوا ہو یا بیمار ہو اور بیمار بھی دو شخصوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتا تھا اور نماز میں ملتا تھا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دین اور ہدایت کی باتیں سکھائیں اور انہی ہدایت کی باتوں میں سے ہے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جس میں آذان ہوتی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانے کا حال بیان کرتے ہیں کہ نماز باجماعت سے صرف وہ شخص پیچھے رہتا جس کا نفاق معلوم ہو یا کوئی بیمار ہو۔ یہاں تک کہ بیمار شخص بھی دو آدمیوں کے سہارے آ کر نماز میں شامل ہوتا تھا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقے سکھائے، اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس مسجد میں نماز پڑھی جائے جہاں اذان ہوتی ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز باجماعت، مسجد میں نماز، اور سنت ہدایت ہے۔ یہ روایت ہمیں دکھاتی ہے کہ صحابہ نماز کو صرف فرد کی عبادت نہیں سمجھتے تھے، بلکہ جماعت اور مسجد کے ساتھ اس کا تعلق بہت مضبوط تھا۔ مسلمان کے لیے اس میں سادہ سبق ہے کہ اذان والی مسجد کی نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان والی مسجد میں نماز پڑھنا ہدایت کے طریقوں میں سے ہے۔
- صحابہ کرام نماز باجماعت کا بہت اہتمام کرتے تھے۔
- بیماری کے باوجود جماعت کی کوشش کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- جماعت چھوڑنے کو صحابہ معمولی بات نہیں سمجھتے تھے۔
