صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۹ - اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت
اذان کے بعد مسجد سے نکلنا کیوں ناپسند ہے؟
صحیح مسلم : ۱۴۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : " كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي ، فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ ، حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَمَّا هَذَا ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوالشعثاء روایت:
ہم مسجد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ مؤذن نے اذان دی اور ایک شخص مسجد سے اٹھا اور جانے لگا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ باہر چلا گیا، تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۸۹ کا خلاصہ
یہ روایت اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کے بارے میں واضح تنبیہ دیتی ہے۔ ابوالشعثاء بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے۔ مؤذن نے اذان دی، پھر ایک شخص اٹھ کر مسجد سے باہر جانے لگا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ باہر چلا گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ اس حدیث کا اصل موضوع اذان، مسجد میں ٹھہرنا، اور نماز باجماعت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کے بعد نماز کو چھوڑ کر چلے جانا عام عادت نہیں بنانی چاہیے۔ اذان نماز کی دعوت ہے، اس لیے مسجد میں موجود شخص کے لیے بہتر رویہ یہی ہے کہ نماز ادا کرے، پھر جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان کے بعد مسجد سے نکلنا سخت ناپسند عمل ہے۔
- مسجد میں موجود شخص کو نماز کا انتظار کرنا چاہیے۔
- اذان کو نماز کی پکار سمجھ کر سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے۔
- صحابہ کرام اس معاملے کو نافرمانی سمجھتے تھے۔
