صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۰ - اذان کے بعد باہر جانا نافرمانی
اذان کے بعد مسجد چھوڑنے کی سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۱۴۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۹۰
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " وَرَأَى رَجُلًا ، يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ ، خَارِجًا بَعْدَ الأَذَانِ ، فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوالشعثاء روایت:
میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ فرماتے تھے: اس شخص نے نافرمانی کی ابوالقاسم (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی یہ اس کو کہا جو بعد اذان کے مسجد سے باہر چلا گیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں وہی مضمون دوسری سند سے بیان ہوا ہے کہ اذان کے بعد مسجد سے نکلنا درست رویہ نہیں۔ ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے باہر جا رہا تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ جب اذان ہو چکی ہو اور آدمی مسجد میں موجود ہو، تو نماز سے پہلے باہر چلے جانا نماز کی پکار کو نظر انداز کرنے جیسا عمل ہے۔ یہ حدیث اذان کے بعد مسجد میں ٹھہرنے، نماز باجماعت، اور نماز کے احترام پر زور دیتی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ مسجد میں آ کر اذان سنے تو نماز ادا کیے بغیر نہ نکلے، الا یہ کہ کوئی معتبر وجہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کو روایت میں نافرمانی کہا گیا ہے۔
- مسجد میں موجود شخص کو نماز کی جماعت کا انتظار کرنا چاہیے۔
- اذان کے احترام کا عملی تقاضا نماز ادا کرنا ہے۔
- صحابہ نماز کے معاملے میں بہت سنجیدہ تھے۔
