صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۲ - امام کے دائیں طرف اور عورت پیچھے
نماز کی صف بندی: مرد دائیں طرف، عورت پیچھے
صحیح مسلم : ۱۵۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۰۲
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، سَمِعَ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " صَلَّى بِهِ ، وَبِأُمِّهِ ، أَوْ خَالَتِهِ ، قَالَ : فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا " .
سیدنا انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میری ماں یا خالہ کو نماز پڑھائی (یعنی امامت کی) اور مجھے اپنی داہنی طرف کھڑا کیا اور عورت کو ہمارے پیچھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کی صف بندی کا صاف ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ یا خالہ کو نماز پڑھائی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف کھڑا کیا، جبکہ عورت کو پیچھے کھڑا کیا گیا۔ اس روایت کا اصل سبق نماز میں جگہ اور ترتیب سے متعلق ہے۔ اگر امام کے ساتھ ایک مرد ہو تو وہ امام کے برابر دائیں طرف کھڑا ہو سکتا ہے۔ اور جب عورت بھی نماز میں شامل ہو تو وہ مردوں کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔ یہ بات حدیث کے متن ہی سے معلوم ہوتی ہے، اس میں کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں۔ عام الفاظ میں یہ حدیث گھر میں جماعت کی نماز اور صف بنانے کا عملی طریقہ بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک مرد مقتدی امام کے دائیں طرف کھڑا ہو سکتا ہے۔
- عورت نماز میں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔
- گھر میں بھی نماز کی صف بندی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل سے نماز کی ترتیب سکھائی۔
