صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۴ - بورئیے پر نماز پڑھنے کی حدیث
بورئیے پر نماز پڑھنے کی حدیث اور سادہ عبادت کا سبق
صحیح مسلم : ۱۵۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۰۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح ، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ كِلَاهُمَا ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ ، وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ " .
میمونہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر حاضر تھی اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھ کو لگ جاتا تھا جب سجدہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر نماز پڑھتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور وہ آپ کے برابر موجود ہوتی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کبھی آپ کا کپڑا انہیں لگ جاتا۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر نماز پڑھتے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز کی جگہ اور سادہ انداز میں عبادت ہے۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ نماز کے لیے کوئی خاص قیمتی چیز ضروری ہے، بلکہ واقعہ یہ بتاتا ہے کہ بورئیے جیسی سادہ چیز پر بھی نماز پڑھی گئی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے اندر نماز پڑھتے وقت جگہ کم ہو تو بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ نماز کی اصل حالت برقرار رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بورئیے پر نماز پڑھی۔
- سجدے کے وقت کپڑا قریب موجود فرد کو لگ سکتا تھا۔
- عبادت میں سادگی حدیث کے متن سے ظاہر ہوتی ہے۔
- گھر میں دستیاب صاف جگہ پر نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
