صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۱ - گھر میں نفل نماز اور دعا کی برکت

گھر میں نفل نماز اور اہل خانہ کے لیے دعا کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۰۱

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا ، وَأُمِّي ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي ، فَقَالَ : " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ ، فَصَلَّى بِنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ : أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ ؟ قَالَ : جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ ، ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، فَقَالَتْ أُمِّي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ ، قَالَ : فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ ، أَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ ، وَوَلَدَهُ ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ " .

سیدنا انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور میں گھر میں تھا اور میری ماں اور میری خالہ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو میں تمہارے لئے نماز پڑھوں۔“ اور اس وقت کسی فرض نماز کا وقت نہ تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور ایک شخص نے ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا؟ انہوں نے کہا: اپنے داہنی طرف۔پھر دعائے خیر کی ہم سب گھر والوں کے لئے سب بھلائیوں کی خواہ دنیا کی ہوں یا آخرت کی۔ سو میری ماں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا چھوٹا خادم (یعنی انس) ہے اس کے لئے آپ دعا فرمائیں سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ہر چیز مانگی اور اس دعا کے آخر میں عرض کی کہ یا اللہ! ”اس کا مال زیادہ کر، اولاد دے، پھر اس میں برکت عنایت فرما۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۵۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع گھر میں نفل نماز، نماز کی صف بندی اور دعا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے، وہاں ان کی والدہ اور خالہ بھی موجود تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کے وقت کے علاوہ انہیں نماز پڑھائی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو اپنے دائیں طرف کھڑا کیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امام کے ساتھ ایک مرد یا لڑکا ہو تو وہ دائیں طرف کھڑا ہو سکتا ہے۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی۔ پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے لیے مال، اولاد اور ان میں برکت کی دعا کی۔ یہ حدیث ہمیں گھر والوں کے لیے خیر کی دعا، نفل نماز کی جماعت اور برکت مانگنے کا سادہ سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نفل نماز کبھی گھر میں جماعت کے ساتھ بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
  • ایک مقتدی امام کے دائیں طرف کھڑا ہو سکتا ہے۔
  • اہل خانہ کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا کرنا اچھا عمل ہے۔
  • مال اور اولاد کے ساتھ برکت مانگنا بھی دعا کا حصہ ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں