صحیح مسلم حدیث ۱۵۱۸ - ہر قدم پر ایک درجہ
مسجد تک ہر قدم پر ایک درجہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۵۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۱۸
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا ، فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہمارے لوگوں کے گھر مسجد سے دور تھے تو ہم نے چاہا کہ بیچ ڈالیں اور مسجد کے قریب آ رہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو روکا اور فرمایا: ”تمہارے لئے ہر قدم پر ایک درجہ ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کے لوگوں کے گھر مسجد سے دور تھے۔ انہوں نے چاہا کہ اپنے گھر بیچ کر مسجد کے قریب آ جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روکا اور فرمایا کہ تمہارے لیے ہر قدم پر ایک درجہ ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع مسجد تک چلنے کے قدموں کا اجر ہے۔ یہاں یہ بات خاص ہے کہ قریب آنا بظاہر آسانی کا سبب تھا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ دور سے آنے والے قدم بھی درجے کا سبب بنتے ہیں۔ حدیث سے ہمیں یہ متوازن سبق ملتا ہے کہ اگر مسجد تک آنا ممکن ہو اور انسان نماز کے لیے چل کر آئے تو اس کے قدم اللہ کے ہاں قدر رکھتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد سے دور رہنے والوں کے قدموں کا اجر بیان ہوا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب منتقل ہونے سے روکا۔
- ہر قدم پر ایک درجہ ملنے کی خبر دی گئی۔
- نماز کے لیے چل کر آنا حدیث میں قدر والا عمل بتایا گیا۔
