صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۰ - مسجد تک قدموں کی خوشخبری

بنو سلمہ کی خوشی: تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۲۰

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ ، أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " ، فَقَالُوا : مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا .

جابر بن عبداللہ روایت:

بنو سلمہ نے چاہا کہ مسجد کے قریب آ جائیں اور کچھ قطعے خالی تھے تو یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ! اپنے ہی گھروں میں رہو تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا کہ ہم اس فرمانے سے ایسے خوش ہوئے کہ وہاں سے اٹھ آنے سے اتنی خوشی نہ ہوتی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی بنو سلمہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے مسجد کے قریب آنا چاہا، کیونکہ وہاں جگہیں خالی تھیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس فرمان سے ہمیں اتنی خوشی ہوئی کہ اگر ہم منتقل ہو جاتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ اس روایت میں ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو اپنے لیے بڑی خوشخبری سمجھا۔ اصل موضوع مسجد تک قدموں کا اجر ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نماز کے لیے چل کر آنے والے قدم اللہ کے ہاں لکھے جاتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بنو سلمہ مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے تھے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گھروں میں رہنے کو فرمایا۔
  • ان کے مسجد تک قدم لکھے جانے کی خبر دی گئی۔
  • صحابہ اس خوشخبری سے بہت خوش ہوئے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں