صحیح مسلم حدیث ۱۵۱۹ - بنو سلمہ کے قدم لکھے جاتے ہیں
بنو سلمہ: اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں
صحیح مسلم : ۱۵۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۱۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ ، أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ، " دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
کچھ جگہیں مسجد کے گرد خالی ہوئی ہیں تو بنو سلمہ کے قبیلہ والوں نے چاہا کہ مسجد کے پاس اٹھ آئیں اور یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری خبر ہم کو پہنچی ہے کہ تم چاہتے ہو کہ مسجد کے قریب آ رہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ہاں اے اللہ کے رسول! ہم نے چاہا تو ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ! تم اپنے ہی گھروں میں رہو تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں۔“ (یعنی تاکہ ان کا ثواب ملے)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں، تو بنو سلمہ نے چاہا کہ وہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم مسجد کے قریب آنا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں، ہم نے یہی چاہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں۔ یہ جملہ دو بار آیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مسجد تک قدموں کا اجر ہے۔ اس میں یہ سبق ہے کہ نماز کے لیے دور سے چل کر آنا، جب نیت نماز کی ہو، اللہ کے ہاں لکھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بنو سلمہ مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے تھے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گھروں میں رہنے کو فرمایا۔
- مسجد تک ان کے قدم لکھے جانے کی خبر دی گئی۔
- نماز کے لیے چلنے والے قدم ضائع نہیں ہوتے۔
