صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۹ - امامت کا حقدار کون ہے
امامت کا حقدار: قرآن زیادہ پڑھنے والے کو آگے کیا جائے
صحیح مسلم : ۱۵۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۲۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ ، أَقْرَؤُهُمْ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین شخص ہوں تو ایک ان میں سے امام ہو جائے اور امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو قرآن زیادہ پڑھا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۲۹ کا خلاصہ
یہ حدیث امامت کے ایک بنیادی اصول کو آسان الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تین شخص ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے، اور امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو قرآن زیادہ پڑھتا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی نماز میں ترتیب ہونی چاہیے، ہر شخص الگ الگ نہ کھڑا ہو جائے۔ امامت کا معیار یہاں قرآن کی قراءت بتایا گیا ہے۔ اس حدیث میں تین افراد کا ذکر خاص طور پر ہے، اس لیے اسی حالت کو سامنے رکھ کر بات سمجھنی چاہیے۔ یہ روایت نماز باجماعت، امام کے انتخاب اور قرآن سے تعلق کی اہمیت بتاتی ہے۔ امامت کوئی رسمی مقام نہیں، بلکہ عبادت میں رہنمائی کا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین افراد ہوں تو جماعت بنائی جائے اور ایک امام ہو۔
- امامت کے لیے قرآن زیادہ پڑھنے والے کو ترجیح دی جائے۔
- جماعت کی نماز میں نظم اور ترتیب ضروری ہے۔
- قرآن سے تعلق امامت کے لیے اہم معیار ہے۔
