صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۰ - امامت اور قرآن کی ترجیح

امامت کی حدیث: ایک ہی مضمون کی دوسری روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۰

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح ، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح ، وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كُلُّهُمْ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

قتادہ روایت:

قتادہ سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۰ کا خلاصہ

اس روایت میں قتادہ سے وہی مضمون نقل ہوا ہے جو امامت کے بارے میں بیان کیا گیا تھا۔ یعنی جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک امام ہو، اور امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو قرآن زیادہ پڑھتا ہو۔ اس طرح یہ حدیث نماز باجماعت کی ترتیب کو مضبوط کرتی ہے۔ قرآن پڑھنے والے کو آگے کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز کی قیادت علم اور عبادت کے احترام کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یہاں حدیث کا دائرہ مختصر ہے، اس لیے ہمیں اس سے وہی سبق لینا چاہیے جو متن میں موجود ہے: جماعت ہو، امام ہو، اور امام کے انتخاب میں قرآن کو اہمیت دی جائے۔ یہ سادہ اصول گھر، سفر یا چھوٹی جماعت میں بھی رہنمائی دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جماعت میں ایک شخص کو امام بنایا جائے۔
  • قرآن کی قراءت امامت میں اہم ترجیح ہے۔
  • دوسری سند سے روایت کا آنا مضمون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
  • نماز باجماعت میں نظم قائم رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں