صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۱ - امامت میں قراءت کی اہمیت
امامت کا معیار: قرآن سے تعلق رکھنے والا آگے
صحیح مسلم : ۱۵۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ . ح ، وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ جَمِيعًا ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
ابوسعید روایت:
ابوسعید بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کرتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ امامت کے لیے قرآن زیادہ پڑھنے والا زیادہ حق رکھتا ہے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز باجماعت میں امام کے انتخاب کو بے ترتیب نہیں چھوڑا گیا، بلکہ واضح اصول دیا گیا ہے۔ جب چند لوگ ایک ساتھ نماز پڑھیں تو ایک امام ہونا چاہیے، اور قرآن کی قراءت رکھنے والے کو ترجیح ملنی چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت میں قیادت کا تعلق دین سے ہو، نہ کہ صرف عمر، عادت یا ذاتی پسند سے۔ البتہ اس روایت کے متن میں جو بات ہے، بات اسی تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امامت کے لیے قرآن کی قراءت اہم معیار ہے۔
- جماعت کی نماز میں واضح ترتیب ہونی چاہیے۔
- دینی قیادت میں قرآن سے تعلق کو اہمیت دی گئی ہے۔
- حدیث مختصر ہے، مگر امامت کا بنیادی اصول واضح کرتی ہے۔
