صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۲ - امامت کے اصول اور ادب

امامت کا حقدار کون؟ قرآن، سنت اور ادب کا واضح اصول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۲

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ ، أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً ، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا ، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ ، إِلَّا بِإِذْنِهِ " ، قَالَ الأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ : مَكَانَ سِلْمًا ، سِنًّا ،

ابومسعود انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی امامت وہ کرے جو قرآن زیادہ جانتا ہو اگر قرآن میں برابر ہوں تو جو سنت زیادہ جانتا ہو۔ اگر سنت میں برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو۔ اگر ہجرت میں برابر ہوں تو جو اسلام پہلے لایا ہو۔ اور کسی کی حکومت کی جگہ میں جا کر اس کی امامت نہ کرے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھے مگر اس کے حکم سے۔“ اشج نے اسلام کی جگہ عمر کو ذکر کیا یعنی جس کی عمر زیادہ ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۲ کا خلاصہ

یہ حدیث امامت کے اصول کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب کو زیادہ پڑھتا ہو۔ اگر قراءت میں برابر ہوں تو وہ جو سنت زیادہ جانتا ہو۔ اگر سنت میں بھی برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو۔ اگر اس میں بھی برابر ہوں تو جو پہلے اسلام لایا ہو۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ کسی شخص کے اختیار کی جگہ پر اس کی امامت نہ کی جائے، اور اس کے گھر میں اس کی خاص نشست پر اجازت کے بغیر نہ بیٹھا جائے۔ اس حدیث میں امامت کا حقدار، امام کے انتخاب کا معیار، اور لوگوں کے حق کا ادب تینوں باتیں موجود ہیں۔ عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرتی احترام بھی سکھایا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امامت میں سب سے پہلے قرآن کی قراءت کو دیکھا جائے۔
  • برابری کی صورت میں سنت کا علم اہم معیار ہے۔
  • دوسرے کی جگہ، اختیار اور گھر کے ادب کا خیال رکھا جائے۔
  • امامت کے معاملے میں دینی اہلیت اور اخلاق دونوں اہم ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں