صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۳ - امامت کے آداب کی روایت
امامت کے آداب: وہی اصول دوسری سند سے
صحیح مسلم : ۱۵۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۳
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
اعمش سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۳ کا خلاصہ
اس روایت میں اعمش سے وہی حدیث مروی ہے جس میں امامت کے اصول بیان ہوئے ہیں۔ اصل مضمون یہ ہے کہ امامت کے لیے پہلے قرآن کی قراءت دیکھی جائے، پھر سنت کا علم، پھر ہجرت یا سبقت کا لحاظ کیا جائے، اور دوسرے کے اختیار والی جگہ پر بغیر اجازت امامت نہ کی جائے۔ اس روایت کا فائدہ یہ ہے کہ وہی اہم بات دوسری سند سے نقل ہوئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اور راوی دینی احکام کو احتیاط سے آگے پہنچاتے تھے۔ امامت صرف نماز پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ اس میں اہلیت، علم، ترتیب اور ادب شامل ہیں۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ عبادت کے ماحول میں دوسروں کے حقوق اور مقام کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امامت کے اصول کو دینی اہلیت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- قرآن اور سنت کا علم امام کے انتخاب میں اہم ہے۔
- دوسرے کی جگہ اور اختیار کا ادب ضروری ہے۔
- حدیث کی دوسری سند مضمون کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
