صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۵ - اذان، تعلیم اور بڑے کی امامت

اذان اور امامت کی حدیث: گھر والوں کو دین سکھانے کا پیغام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۵

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَحِيمًا ، رَقِيقًا ، فَظَنَّ أَنَّا ، قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا ، فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ ، وَعَلِّمُوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .

مالک بن حویرث روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم جوان، ہم عمر تھے اور بیس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت مہربان اور نرم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا کہ ہم لوگ وطن کے مشتاق ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کن کن لوگوں کو تم اپنے وطن میں چھوڑ آئے اپنے عزیز و اقارب میں سے۔“ اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دیس کو لوٹ جاؤ اور وہاں رہو اور لوگوں کو اسلام کی باتیں سکھاؤ، بتاؤ۔ پھر جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی جوان تھے، ہم عمر تھے، اور بیس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت مہربان اور نرم تھے۔ جب آپ نے محسوس کیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو یاد کر رہے ہیں تو ان سے ان کے اہل خانہ کے بارے میں پوچھا، پھر فرمایا کہ اپنے وطن لوٹ جاؤ، وہاں رہو، لوگوں کو دین کی باتیں سکھاؤ اور بتاؤ۔ جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک اذان دے، اور جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔ اس حدیث میں تعلیم، اذان، نماز کا وقت، امامت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت سب واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین سیکھ کر اپنے لوگوں کو سکھانا اہم ذمہ داری ہے۔
  • نماز کا وقت آئے تو اذان کا اہتمام کیا جائے۔
  • ہم عمر لوگوں میں بڑے کو امامت کے لیے آگے کیا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے جذبات کا خیال رکھتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں