صحیح مسلم حدیث ۲۰۶۶ - عید پر حبشیوں کا کھیل
حبشیوں کا کھیل حدیث: عید کے دن مسجد میں کھیل
صحیح مسلم : ۲۰۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۶۶
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ ، حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ " .
عائشہ روایت:
ایک بار عید کے دن حبشی آ کر مسجد میں کھیلنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانے پر سر رکھا اور ان کے کھیل کو دیکھنے لگی۔ یہاں تک کہ میں ہی ان کے دیکھنے سے بیزار ہو جاتی تھی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عید کے دن حبشی مسجد میں کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بلایا، انہوں نے اپنا سر نبی صلى الله عليه وسلم کے شانے پر رکھا، اور کھیل دیکھتی رہیں۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ وہ خود ہی دیکھنے سے ہٹتیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے عید کے دن ایک جائز کھیل دیکھنے میں سختی نہیں فرمائی، بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے شوق کا لحاظ کیا۔ حبشیوں کا کھیل حدیث، عید پر کھیل، اور مسجد میں کھیل حدیث جیسے الفاظ اسی واقعے کو ڈھونڈنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ متن میں کھیل کی نوعیت حبشیوں کے عید والے کھیل کے طور پر بیان ہوئی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر غیر متعلقہ باتیں شامل نہیں کرنی چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عید کے دن خوشی کے موقع پر نرمی کی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خود کھیل دیکھنے کے لیے بلایا۔
- اہل خانہ کے شوق کو مناسب حد تک پورا کرنا اچھا انداز ہے۔
- حدیث میں کھیل دیکھنے کا اختتام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رغبت ختم ہونے پر ہوا۔
