صحیح مسلم حدیث ۲۰۶۵ - عید کا دن اور جائز خوشی
عید کی خوشی کی حدیث: بعاث کے اشعار اور بنی ارفدہ کا کھیل
صحیح مسلم : ۲۰۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۶۵
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي ، وَقَالَ : مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعْهُمَا " ، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا ، وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِمَّا قَالَ : " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ " ، حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ ، قَالَ : " حَسْبُكِ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاذْهَبِي " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے اور میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں بعاث کی لڑائی کو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ ان کی طرف سے پھیر لیا اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے جھڑکا کہ یہ شیطان کی تان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”ان کو چھوڑ دو (یعنی گانے دو) پھر جب وہ غافل ہو گئے، میں نے ان دونوں کے چٹکی لی کہ وہ نکل گئیں اور وہ عید کا دن تھا۔اور سوڈانی ڈھالوں اور نیزوں سے کھیلتے تھے، سو مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش ظاہر کی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: ” تم اسے دیکھنا چاہتی ہو“ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ” اے اولاد ارفعہ کی! تم اپنے کھیل میں مشغول رہو۔“ یہاں تک کہ جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بس“ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۰۶۵ کا خلاصہ
یہ روایت عید کے دن کے ایک مکمل واقعے کو بیان کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو لڑکیاں بعاث کے اشعار گا رہی تھیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے رخ دوسری طرف کر لیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور سختی کی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو۔ پھر عید ہی کے دن سوڈانی ڈھالوں اور نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں دیکھا، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں اپنے پیچھے کھڑا کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے کھلاڑیوں سے فرمایا کہ اے بنی ارفدہ، کھیل جاری رکھو۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھک گئیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ بس؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس حدیث میں عید کی خوشی، اہل خانہ سے محبت، اور موقع کی رعایت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عید کے دن گھر میں خوشی کا ماحول رکھا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش کا خیال رکھا۔
- کھیل دیکھنے کا وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طبیعت تک رہا۔
- واقعے میں ڈھال اور نیزے کے کھیل کا خاص ذکر ہے۔
