صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۷ - عورت اور جنازہ
جنازے کے پیچھے جانے کی حدیث: ممانعت مگر سخت تاکید نہیں
صحیح مسلم : ۲۱۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۷
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا " .
ام عطیہ روایت:
ہمیں جنازہ کے پیچھے جانے سے روکا گیا مگر زیادہ سختی نہ کی گئی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی اسی بات کو دوسرے طریقے سے بیان کرتی ہے کہ عورتوں کو جنازے کے پیچھے جانے سے روکا گیا، لیکن اس پر بہت سختی نہیں کی گئی۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ حدیث کے دونوں حصوں کو ساتھ رکھا جائے۔ صرف ممانعت کا لفظ لے کر سخت لہجہ بنانا بھی درست انداز نہیں، اور سخت تاکید نہ ہونے کو دیکھ کر حکم کو معمولی سمجھنا بھی ٹھیک نہیں۔ جنازے کے وقت دل نرم ہوتا ہے، گھر والے غم میں ہوتے ہیں، اس لیے شریعت سکون، وقار اور حد کا راستہ بتاتی ہے۔ اس روایت سے عام فہم سبق یہ ملتا ہے کہ جنازہ ایک سنجیدہ موقع ہے، اس میں ہر کام سوچ سمجھ کر اور دین کی رہنمائی کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں ممانعت بھی ہے اور سخت تاکید نہ ہونے کا ذکر بھی۔
- جنازے کے احکام بیان کرتے وقت توازن ضروری ہے۔
- غم کے موقع پر سکون اور وقار کا خیال رکھا جائے۔
- دینی حکم کو نہ بڑھا چڑھا کر، نہ کم کر کے بیان کیا جائے۔
