صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۶ - جنازہ کے ساتھ جانا

عورتوں کا جنازے کے پیچھے جانا: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۶

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ : " كُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا " .

ام عطیہ روایت:

ہم کو جنازہ کے ساتھ چلنے سے روکا جاتا تھا مگر تاکید سے نہیں روکا جاتا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع عورتوں کا جنازے کے پیچھے جانا ہے۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں جنازہ کے ساتھ چلنے سے روکا جاتا تھا، مگر اس ممانعت میں سخت تاکید نہیں کی جاتی تھی۔ حدیث کے الفاظ بہت نازک ہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ اس روایت سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل سے روکا گیا، لیکن روایت میں یہ بھی بتایا گیا کہ روکنے کا انداز بہت سخت نہیں تھا۔ اس لیے اس حدیث کو بیان کرتے وقت نہ الفاظ سے زیادہ سختی بڑھائی جائے، نہ حکم کو ہلکا سمجھ کر نظر انداز کیا جائے۔ آسان بات یہ ہے کہ جنازے کے آداب میں وقار، سکون اور شریعت کی ہدایت کا خیال رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عورتوں کو جنازے کے پیچھے جانے سے روکا گیا۔
  • حدیث کے الفاظ میں سخت تاکید نہ ہونے کا ذکر بھی ہے۔
  • شرعی بات بیان کرتے وقت الفاظ کی حد قائم رکھنی چاہیے۔
  • جنازے کے موقع پر وقار اور سکون ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں