صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۵ - معروف بیعت اور نوحہ

نوحہ اور معروف کی اطاعت: بیعت والی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۵

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَتْ : كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا آلَ فُلَانٍ " .

ام عطیہ روایت:

جب یہ آیت اتری «يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» یعنی ”جب مؤمن عورتیں تیرے پاس آئیں بیعت کرنے کو تو ان سے بیعت لے کہ نہ شریک کریں۔“ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو اور وہ کسی دستور کی بات میں تیری نافرمانی نہ کریں تو ان باتوں میں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کی نوحہ بھی تھا۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کہیں نوحہ نہ کروں گی مگر فلاں شخص کے قبیلہ میں اس لئے کہ وہ میرے نوحہ میں جاہلیت کے زمانہ میں شریک ہوتی تھی تو مجھے بھی ان کے ساتھ شریک ہونا ضروری ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ خیر فلاں قبیلہ میں سہی۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ جب مؤمن عورتوں کی بیعت والی آیت نازل ہوئی تو ان باتوں میں نوحہ بھی شامل تھا جن سے روکا گیا۔ اس روایت میں ایک خاص واقعہ بھی آیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ایک قبیلے کے بارے میں اجازت چاہی، کیونکہ جاہلیت کے زمانے میں وہ لوگ ان کے نوحہ میں شریک ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس خاص صورت میں اجازت دی۔ اس حدیث سے ہمیں دو باتیں بہت سادہ انداز میں سمجھ آتی ہیں: اصل حکم نوحہ سے بچنے کا ہے، اور جاہلیت کے رواج کو دین کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے حالات نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے صاف بیان کرتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نوحہ کو ان کاموں میں شمار کیا گیا جن سے بیعت میں روکا گیا۔
  • جاہلیت کے پرانے رواج دینی حکم پر غالب نہیں ہونے چاہئیں۔
  • خاص معاملہ ہو تو نبی صلى الله عليه وسلم سے رہنمائی لی جاتی تھی۔
  • اصل راستہ صبر اور معروف اطاعت کا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں