صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۴ - نوحہ نہ کرنے کا عہد

نوحہ نہ کرنے کا وعدہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۴

حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْعَةِ أَلَّا تَنُحْنَ ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ ، مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ " .

ام عطیہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس میں یہ بات بھی تھی کہ نوحہ نہیں کرنا پس اس بات پر ہم میں سے صرف پانچ نے وفا کی ان میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔

صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۴ کا خلاصہ

یہ حدیث سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور پچھلی روایت کے معنی کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بیعت کے وقت یہ بات بھی شامل فرمائی کہ نوحہ نہیں کیا جائے گا۔ نوحہ کی ممانعت صرف ایک وقتی نصیحت نہیں تھی، بلکہ اسے عہد کا حصہ بنایا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے غم میں حد سے بڑھ جانا پسندیدہ نہیں۔ روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ وفا کرنے والی عورتیں کم تھیں، اور ان میں ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ اس سے ہمیں اپنی کمزوری کا احساس بھی ہوتا ہے اور عہد نبھانے کی اہمیت بھی۔ آسان اردو میں اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ غم میں صبر، زبان پر قابو اور وعدے کی پاسداری ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نوحہ نہ کرنا دینی عہد کا حصہ بتایا گیا۔
  • وعدے پر قائم رہنا آسان نہ ہو، تب بھی کوشش لازم ہے۔
  • غم کے وقت زبان اور آواز کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • نیک لوگوں کا ذکر عہد نبھانے کی ترغیب دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں