صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۲ - نوحہ روکنے کا حکم
نوحہ روکنے کی حدیث: حکم کو ٹالنا نہیں
صحیح مسلم : ۲۱۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۲
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ " وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعِيِّ " .
اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے کچھ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کی دوسری سند ہے، اس لیے اس کا مرکزی سبق بھی نوحہ سے بچنا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کو سنجیدگی سے لینا ہے۔ الفاظ میں معمولی فرق ہے، مگر بات وہی ہے کہ جب میت کے گھر سے ایسے رونے کی خبر آئی جس میں چیخ پکار کا پہلو تھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے روکنے کا حکم دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ جو شخص حکم لے کر گیا، اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے تھی۔ غم کے وقت لوگ کمزور ہو جاتے ہیں، مگر حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایسے موقع پر بھی شریعت کی حد باقی رہتی ہے۔ صبر، نرمی اور حکم پر عمل، تینوں باتیں یہاں سامنے آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی بات کئی سندوں سے آئے تو اس کی اہمیت اور واضح ہو جاتی ہے۔
- نوحہ اور چیخ پکار کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کو بار بار ٹالنا مناسب نہیں۔
- غم میں بھی دین کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
