حدیث ۲۱۶۱
صحیح مسلم : ۲۱۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۱
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : لَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ ، قَالَتْ : وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ شَقِّ الْبَابِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ ، فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ ، فَذَهَبَ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَتْ : فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ ، وَاللَّهِ مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا زید بن حارثہ اور جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کے قتل کی خبر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان کو دروازہ کی دراڑ سے دیکھتی تھی کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں (یعنی چیخ چلا کر شرع میں منع ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ ان کو روکو۔“ پھر وہ گیا اور پھر آیا اور عرض کیا کہ انہوں نے نہیں مانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ اس کو فرمایا: ”کہ جاؤ ان کو روک دو۔“ پھر وہ گیا اور آیا اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم! ہم کو انہوں نے ہرا دیا اے اللہ کے رسول! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں خیال کرتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا ان کے منہ میں خاک ڈال دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: تیری ناک میں اللہ خاک بھرے کہ نہ تو وہ کام کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم فرماتے ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے کہ تکلیف سے چھوٹ کر بیٹھیں۔
