صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۳ - بیعت میں نوحہ کی ممانعت

بیعت اور نوحہ: وعدہ پورا کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۳

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ أَلَّا نَنُوحَ ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا خَمْسٌ : أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوْ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ " .

ام عطیہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے ساتھ اقرار کیا کہ ہم نوحہ نہ کریں تو کسی نے اقرار کو پورا نہ کیا مگر پانچ عورتوں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ام علاء رضی اللہ عنہا اور ابوسیرہ کی بیٹی جو عورت تھیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی یا یوں کہا کہ ابوسیرہ کی بیٹی اور معاذ کی بی بی رضی اللہ عنہا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بیعت لیتے وقت یہ عہد بھی لیا کہ عورتیں نوحہ نہیں کریں گی۔ نوحہ کی حدیث میں یہ بات بہت صاف ہے کہ میت پر چیخنا چلانا اور جاہلیت کے انداز کا رونا دینی عہد کے خلاف ہے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ اس عہد کو پوری طرح نبھانے والی عورتیں بہت کم رہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غم کے وقت خود کو روکنا آسان نہیں، مگر بندہ اپنے وعدے کو یاد رکھے۔ بیعت صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ عمل کی ذمہ داری بھی ہے۔ اس حدیث کا پیغام سادہ ہے: غم آئے تو صبر کیا جائے، اور جو دینی عہد کیا جائے اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نوحہ نہ کرنا بیعت کے عہد میں شامل تھا۔
  • دینی وعدہ زبان سے زیادہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔
  • غم کے وقت خود پر قابو رکھنا ایک عملی امتحان ہے۔
  • ہر شخص کو اپنے کیے ہوئے عہد کی فکر کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں