صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۲ - قبر پر نماز کی دوسری روایت
قبر پر نماز جنازہ: جب روایت میں چار تکبیریں نہ آئیں
صحیح مسلم : ۲۲۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۱۲
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " ،
ابن عباس روایت:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل اس کے، اور کسی کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اسی طرح کی روایت آئی ہے کہ قبر پر نماز پڑھی گئی۔ مگر خاص بات یہ ہے کہ راوی نے صاف کہا کہ ان میں سے کسی کی حدیث میں یہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ اس روایت کا مرکزی موضوع قبر پر نماز جنازہ اور الفاظ کا فرق ہے۔ آسان انداز میں بات یہ ہے کہ اصل واقعہ قبر پر نماز کا ہے، لیکن مختلف روایتوں میں کچھ الفاظ الگ آتے ہیں۔ یہاں چار تکبیروں کا ذکر موجود نہیں، اس لیے اس متن کی بنیاد پر صرف قبر پر نماز پڑھنے کی بات کہی جا سکتی ہے۔ یہی احتیاط حدیث سمجھنے میں بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں قبر پر نماز پڑھنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
- اس خاص متن میں چار تکبیروں کا ذکر موجود نہیں۔
- حدیث کے الفاظ میں فرق کو واضح کرنا ضروری ہے۔
- جو بات روایت میں نہ ہو، اسے اسی روایت کی تشریح میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔
