صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۳ - قبر پر نماز اور الفاظ کی احتیاط
قبر پر نماز کی حدیث: روایت کے الفاظ کو درست سمجھنا
صحیح مسلم : ۲۲۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۱۳
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ : " وَكَبَّرَ أَرْبَعًا " .
ابن عباس روایت:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر پر نماز پڑھنے کے باب میں روایت کی شیبانی کی حدیث کے مانند مگر کسی کی روایت میں چار تکبیریں کہنے کا ذکر نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۳ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر پر نماز پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔ راوی نے بتایا کہ یہ شیبانی کی حدیث کے مانند ہے، لیکن ان روایتوں میں چار تکبیریں کہنے کا ذکر نہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع قبر پر نماز جنازہ اور روایت کے الفاظ کی احتیاط ہے۔ اس سے حدیث پڑھنے والے کو یہ سبق ملتا ہے کہ ایک ہی واقعہ کئی طریقوں سے نقل ہو تو ہر متن کے الفاظ کو الگ دیکھا جاتا ہے۔ یہاں قبر پر نماز کی بات موجود ہے، مگر چار تکبیروں کو اس خاص روایت میں نہیں جوڑا گیا۔ اسی لیے وضاحت کرتے وقت کہنا چاہیے کہ اس روایت میں نماز کا ذکر ہے، تکبیروں کی تعداد نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں قبر پر نماز پڑھنے کا مضمون موجود ہے۔
- اس خاص متن میں چار تکبیروں کا ذکر نہیں آیا۔
- حدیث کے الفاظ کو دوسرے متن کے الفاظ سے ملاتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
- محدثین نے لفظی فرق کو صاف طور پر بیان کیا۔
