صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۸ - منیحة کا اجر
منیحة کا ثواب: صبح شام صدقہ کا اجر
صحیح مسلم : ۲۳۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۵۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ نَهَى فَذَكَرَ خِصَالًا ، وَقَالَ : " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً ، غَدَتْ بِصَدَقَةٍ ، وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی باتوں سے منع فرمایا تھا اور فرمایا: ”جس نے منیحہ دیا، اس کے لئے ایک صدقہ کا ثواب صبح کو ہوا اور ایک شام کو، صبح کا صبح کے پینے سے، اور شام کا شام کے دودھ پینے سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں منیحہ کا اجر بہت واضح انداز میں آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے منیحہ دی، اس کے لیے صبح ایک صدقہ کا ثواب ہوا اور شام ایک صدقہ کا، صبح کے دودھ پینے سے صبح کا اجر اور شام کے دودھ پینے سے شام کا اجر۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فائدہ پہنچانے والی چیز دینا مسلسل خیر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہاں بات کسی ایسی اونٹنی یا دودھ دینے والی چیز کی ہے جس سے دوسرا گھرانہ صبح شام فائدہ اٹھاتا ہے۔ منیحہ کی فضیلت، صبح شام صدقہ، دودھ کا صدقہ اور گھر والوں کی مدد اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایسی مدد جس سے بار بار فائدہ ہو، صدقہ کے اجر کا سبب بن سکتی ہے۔
- صبح اور شام دودھ کا فائدہ بھی خیر کے عمل سے جڑ سکتا ہے۔
- مدد میں ایسی چیز دینا اچھا ہے جس سے ضرورت پوری ہوتی رہے۔
