صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۹ - سخاوت اور بخل
سخاوت اور بخل حدیث: صدقہ دینے والے کی مثال
صحیح مسلم : ۲۳۵۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۵۹
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا ، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ ، وَقَالَ الْآخَرُ : فَإِذَا أَرَادَ الْمُتَصَدِّقُ أَنْ يَتَصَدَّقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ أَوْ مَرَّتْ ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا ، حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : " يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا: ”مثال خرچ کرنے والے کی اور صدقہ دینے والے کی (یہاں راوی سے غلطی ہوئی اور صحیح یہ ہے کہ مثال بخیل کی اور صدقہ دینے والے کی) مانند اس شخص کی ہے کہ اس کے اوپر دو کرتے ہوں یا دو زرہیں (راوی کو شک ہے مگر دو زرہیں صحیح ہے) ان دونوں کی چھاتی سے گلے تک پھر جب خرچ کرنے والا چاہے اور دوسرے راوی نے کہا کہ جب صدقہ دینے والا صدقہ دینا چاہے تو وہ زرہ کشادہ ہو جائے اور اس کے سارے بدن پر پھیل جائے (یعنی اسی طرح صدقہ دینے والے کا دل کشادہ ہو جاتا ہے) اور جی کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور جب بخیل خرچ کرنا چاہے تو وہ زرہ اس پر تنگ ہو جائے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر کس جائے یہاں تک کہ ڈھانپ لے اس کے پوروں تک کو اور مٹا دے اس کے قدموں کے نشان کو جو زمین پر ہوں۔“ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ اس کو کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر کشادہ نہیں ہوتا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال بیان کی گئی ہے۔ روایت میں مثال دو کپڑوں یا دو زرہوں سے آئی ہے، اور صحیح معنی میں دو زرہوں کا ذکر زیادہ واضح ہے۔ جب صدقہ دینے والا صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ کشادہ ہو جاتی ہے اور اس کے بدن پر پھیل جاتی ہے۔ جب بخیل خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ تنگ ہو جاتی ہے، ہر حلقہ اپنی جگہ کس جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے پھیلانا چاہتا ہے مگر پھیلتی نہیں۔ یہ مثال بہت سادہ انداز میں سخاوت اور بخل کا فرق سمجھاتی ہے۔ صدقہ کی فضیلت، بخیل کی مثال، سخاوت کی حدیث اور مال خرچ کرنے کی رغبت اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دینے والے کے لیے کشادگی کی مثال دی گئی ہے۔
- بخل انسان کو تنگی کی حالت میں دکھاتا ہے۔
- مال خرچ کرنے کا ارادہ خیر کی طرف قدم ہو سکتا ہے۔
