صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۰ - بخل سے بچاؤ
بخل سے بچنے کی حدیث: صدقہ دینے والے کی کشادگی
صحیح مسلم : ۲۳۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۶۰
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا ، فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ ، حَتَّى تُغَشِّيَ أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ ، قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا " ، قَالَ : فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَيْبِهِ : " فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَوَسَّعُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان فرمائی کہ ”ان کی مثال دو آدمیوں کی سی ہے کہ ان دونوں پر دو زرہیں ہوں لوہے کی کہ ان دونوں کے ہاتھ ان کی چھاتیوں میں بندھے ہوں اور ان کے گلوں میں پھر صدقہ دینے والا جب ارادہ کر لے صدقہ دینے کا تو وہ زرہ اس کی کشادہ ہو جائے یہاں تک کہ اس کے پوروں کو ڈھانپ لے (اور اس کے ہاتھ بھی کھل جائیں اس کے کشادہ ہونے سے) اور اس کے قدم کے نشان جو زمین پر ہوں اس کو بھی مٹا دے (یعنی سخی کے عیب سخاوت سے ڈھک جاتے ہیں یا گناہ معاف ہو جاتے ہیں) اور وہ زرہ گویا زمین پر لٹکتی ہے کہ اس کے قدموں کے نشانوں کو مٹاتی ہے اور بخیل کا حال ایسا ہے کہ جب ارادہ کرتا ہے صدقہ کا زرہ اس کی تنگ ہو جاتی ہے اور ہر حلقہ اس کا اپنی جگہ پر پھنس جاتا ہے۔“ اور کہا راوی نے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ اپنے گریبان میں ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے (تاکہ سامعین کے ذہن میں اس کے تنگ ہونے کی تصویر بن جائے) اور اگر تم ان کو دیکھتے تو وہ کہتے کہ کشادہ کرنا چاہتے تھے اور زرہ کشادہ نہ ہوتی تھی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال دو آدمیوں سے دی جن پر لوہے کی زرہیں ہیں۔ صدقہ دینے والا جب صدقہ کرتا ہے تو زرہ اس پر کشادہ ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ انگلیوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور قدموں کے نشان بھی مٹا دیتی ہے۔ بخیل جب صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ تنگ ہو جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پھنس جاتا ہے۔ راوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گریبان میں اشارہ کرتے دیکھا تاکہ تنگی کی کیفیت سمجھ آ جائے۔ یہ حدیث بخل سے بچنے، سخاوت اپنانے اور صدقہ کی طرف دل کو نرم کرنے کی نصیحت دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دینے والے کی مثال کشادگی سے دی گئی ہے۔
- بخل کو تنگی اور رکاوٹ کی صورت میں سمجھایا گیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال کے ذریعے بات کو آسان بنایا۔
