صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۶ - پہلے اپنے زیر کفالت پر خرچ کرو

بہترین صدقہ اور اہل خانہ پر خرچ کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۸۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جميعا ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .

حکیم بن حزام روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد صدقہ دینے والا غنی رہے (یعنی یہ نہیں کہ سب مال لٹا کر آپ فقیر ہو بیٹھے) اور اوپر کا ہاتھ بہتر ہے نیچے کے ہاتھ سے اور صدقہ پہلے اس کو دے جس کا نان نفقہ اپنے ذمہ ہے۔“ (جیسے لونڈی، غلام، نوکر، چاکر)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ کے بارے میں توازن سکھایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ افضل یا بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد صدقہ دینے والا غنی رہے۔ یعنی آدمی ایسا خرچ نہ کرے کہ خود یا اس کے ذمہ دار لوگ محتاج ہو جائیں۔ پھر فرمایا کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے، یعنی دینے والا بننا بہتر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ صدقہ کی ابتدا اس سے کرو جس کا نان نفقہ تمہارے ذمہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سخاوت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ اہل خانہ پر خرچ، زیر کفالت افراد کا حق اور اپنے مالی حال کا خیال، یہ سب اس حدیث کے اندر موجود ہیں۔ صدقہ کا مطلب بے سوچے سمجھے سب کچھ دے دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری کے ساتھ خرچ کرنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ دیتے ہوئے اپنے ضروری خرچ اور ذمہ دار افراد کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • خرچ کی ابتدا ان لوگوں سے ہو جن کا نفقہ آدمی پر لازم ہے۔
  • دینے والا بننا بہتر ہے، مگر توازن کے ساتھ۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں