صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۵ - اوپر کا ہاتھ بہتر ہے
اوپر کا ہاتھ بہتر ہے: صدقہ اور خودداری کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۸۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ ، وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ ، وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر صدقہ کا ذکر کرتے تھے اور کسی سے سوال نہ کرنے کا اور فرمایا: ”اوپر کا ہاتھ بہتر ہے نیچے کے ہاتھ سے اور اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے بہت جامع بات فرمائی کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حدیث خود ہی اس کی وضاحت کرتی ہے کہ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والا ہے۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ مسلمان کو دینے والا بننے کی کوشش کرنی چاہیے، صرف لینے والا بننے کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔ اوپر کا ہاتھ حدیث میں خودداری، سخاوت اور دوسروں کے کام آنے کا پیغام ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ضرورت مند کی مدد کم تر ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ جس کے پاس گنجائش ہو وہ خرچ کرے اور بلا ضرورت سوال سے بچے۔ صدقہ کی فضیلت اسی وقت معاشرے میں نرمی پیدا کرتی ہے جب لوگ دینے کا مزاج اپنائیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرچ کرنے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہتر بتایا گیا ہے۔
- بلا ضرورت سوال سے بچنا خودداری کی بات ہے۔
- صدقہ دینے کی عادت انسان کو دوسروں کے لیے نفع بخش بناتی ہے۔
