صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۵ - صبر اور قناعت کی تائید
قناعت اور صبر: ایک ہی نصیحت کی مضبوط روایت
صحیح مسلم : ۲۴۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۲۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۵ کا خلاصہ
اس مختصر روایت میں بتایا گیا ہے کہ اوپر والی حدیث اسی سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل مضمون وہی ہے: مانگنے کے بجائے اپنے آپ کو بچانا، دل کو بے نیاز رکھنا، اور صبر کی عادت اپنانا۔ چونکہ یہاں تفصیل دوبارہ نہیں آئی، اس لیے بات کو اسی پچھلی روایت کے ساتھ سمجھا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینے میں کمی نہیں کی، لیکن جب مال ختم ہو گیا تو صحابہ کو ایسا راستہ بتایا جو مال سے بڑھ کر ہے۔ سوال سے بچنا، قناعت کرنا اور صبر کرنا انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔ یہی اس روایت کا اصل فائدہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- قناعت اور صبر ایک مسلمان کے لیے عملی راستہ ہیں۔
- مال ختم ہو سکتا ہے، مگر صبر انسان کے ساتھ رہتا ہے۔
- سوال سے بچنے کی کوشش انسان کو عزت کی طرف لے جاتی ہے۔
