صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۶ - اسلام، ضرورت کا رزق اور قناعت
قناعت کی حدیث: ضرورت بھر رزق اور دل کا اطمینان
صحیح مسلم : ۲۴۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۲۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ وَهُوَ ابْنُ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ ، وَرُزِقَ كَفَافًا ، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد کو پہنچا اور چھٹکارا پایا اس نے جو اسلام لایا اور موافق ضرورت کے رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی روزی پر قناعت دی۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں کامیابی کا ایک صاف معیار بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہوا جو اسلام لایا، اسے ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا، اور اللہ نے اسے اپنی دی ہوئی روزی پر قناعت عطا کی۔ یہاں دولت کی کثرت کو کامیابی نہیں کہا گیا، بلکہ اسلام، کفایت بھر رزق اور قناعت کو کامیابی بتایا گیا ہے۔ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی دی ہوئی روزی پر دل سے راضی رہے اور بے جا حرص میں نہ پڑے۔ یہ حدیث عام زندگی کے لیے بہت اہم ہے، خاص طور پر اس وقت جب انسان دوسروں کے مال کو دیکھ کر اپنے رزق کو کم سمجھنے لگتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام سب سے بڑی نعمت ہے۔
- ضرورت کے مطابق رزق بھی بڑی بھلائی ہے۔
- قناعت دل کو بے جا حرص سے بچاتی ہے۔
- کامیابی صرف مال کی زیادتی کا نام نہیں۔
