صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۷ - ضرورت بھر رزق کی دعا
رزقِ ضرورت کی دعا: اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا
صحیح مسلم : ۲۴۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ كِلَاهُمَا ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» ”یا اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی آل کی روزی موافق ضرورت کے رکھ۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مختصر مگر بہت معنی خیز دعا آئی ہے: اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی روزی ضرورت کے مطابق رکھ۔ اس دعا میں بہت زیادہ مال مانگنے کے بجائے اتنا رزق مانگا گیا جو زندگی کی ضرورت پوری کر دے۔ اس سے قناعت، سادہ زندگی اور رزق کے معاملے میں دل کے سکون کا سبق ملتا ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ ہر وقت مال کی زیادتی ہی مقصد نہیں ہونی چاہیے۔ بندہ اللہ سے ایسا رزق مانگے جو اسے محتاجی سے بچائے، ضرورت پوری کرے اور دل کو بے جا لالچ میں نہ ڈالے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے مطابق رزق بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
- دعا میں سادگی اور قناعت کا انداز سیکھنے کو ملتا ہے۔
- رزق کی زیادتی کے بجائے کفایت بھی مطلوب ہو سکتی ہے۔
- انسان کو رزق کے معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
