صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۱ - دل جوئی اور تحفہ دینے کی حکمت
دل جوئی کی حدیث: مخرمہ خوش ہو گئے؟
صحیح مسلم : ۲۴۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، قَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا ، فَقَالَ : " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " رَضِيَ مَخْرَمَةُ " .
مسور بن مخرمہ روایت:
تقسیم کیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں اور مخرمہ کو کوئی نہ دی، تب مخرمہ نے کہا: اے میرے بیٹے! میرے ساتھ چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک۔ سو میں ان کے ساتھ گیا اور انہوں نے کہا: تم گھر میں جا کر انہیں بلاؤ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اس میں کی ایک قبا اوڑھی اور فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے واسطے رکھ چھوڑی تھی۔“ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخرمہ کو دیکھا اور فرمایا: ”مخرمہ خوش ہو گئے؟“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم فرمائیں مگر مخرمہ کو نہیں دی۔ مخرمہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو۔ جب وہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، ایک قبا اوڑھے ہوئے تھے، اور فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے رکھ چھوڑی تھی۔ پھر مخرمہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: مخرمہ خوش ہو گئے؟ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی، لوگوں کے مزاج کا خیال اور نرم گفتگو کا خوبصورت انداز نظر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگوں کی دل جوئی کرنا اچھا اخلاق ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے احساسات کا خیال رکھتے تھے۔
- تحفہ یا عطا صرف چیز نہیں، دل خوش کرنے کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔
- نرم جملہ دل کی ناراضی کم کر سکتا ہے۔
