صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۱ - خوارج اور حق کے قریب جماعت
خوارج کی حدیث: حق کے قریب جماعت کی پہچان
صحیح مسلم : ۲۴۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۶۱
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ : " قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْحَقِّ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خوارج کی پیش گوئی ہے۔ متن میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ ایک قوم اس وقت نکلے گی جب لوگوں میں اختلاف اور فرقہ بندی کی حالت ہوگی، اور ان کو وہ جماعت قتل کرے گی جو دونوں گروہوں میں حق کے زیادہ قریب ہوگی۔ اس روایت میں بہت لمبی تفصیل نہیں آئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو حدیث میں ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ صرف اختلاف کا ہونا کافی نہیں، بلکہ حق کے قریب رہنا اصل معیار ہے۔ خوارج کی حدیث کو پڑھتے ہوئے احتیاط بھی ضروری ہے، کیونکہ اس میں ایک خاص قوم اور خاص صورت کا ذکر ہے، عام لوگوں پر جلدی حکم لگانا اس متن سے ثابت نہیں ہوتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اختلاف کے وقت حق کے قریب رہنا اصل اہمیت رکھتا ہے۔
- حدیث میں خوارج کے ظہور کی ایک خاص علامت بیان ہوئی ہے۔
- کسی روایت کو اس کے الفاظ سے بڑھا کر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
