صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۲ - خوارج کی نشانیاں اور حدیث میں احتیاط
خوارج کی نشانیاں: قرآن پڑھنا مگر دل تک اثر نہ جانا
صحیح مسلم : ۲۴۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۶۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، جميعا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ الْأَشَجُّ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ،
علی بن ابی طالب روایت:
جب میں تم سے روایت کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو اگر میں آسمان سے گر پڑوں تو اس سے بہتر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات باندھوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی اور جب میں تمہارے اور اپنے بیچ میں کچھ بات کروں تو جان لو کہ لڑائی میں حیلہ اور فریب روا (جائز) ہے اب سنو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اخیر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی کہ ان کے لوگ کمسن ہوں گے اور کم عقل بات سب مخلوقات سے اچھی کہیں گے اور قرآن ایسا پڑھیں گے کہ ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا اور دین سے ایسا نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پھر جب تم ان سے ملو تو ان کو مارو اس لیے کہ ان کے مارنے سے تم کو قیامت کے دن اللہ کے پاس سے ثواب ملے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بہت صاف ہیں۔ پہلی بات یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں نہایت سخت احتیاط بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم پر وہ بات باندھنے سے آسمان سے گرنا بہتر ہے جو آپ صلى الله عليه وسلم نے نہ فرمائی ہو۔ دوسری بات خوارج کی حدیث ہے، جس میں بتایا گیا کہ آخر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی، ان کے لوگ کم عمر اور کم عقل ہوں گے، اچھی باتیں کہیں گے، قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا، اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکلتا ہے۔ اس متن میں جنگ کے موقع پر حیلہ کے جائز ہونے کا ذکر بھی آیا ہے، مگر اصل مضمون خوارج کی پہچان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف بات منسوب کرنے میں بہت احتیاط لازم ہے۔
- صرف اچھی بات کہہ دینا دل کی درستی کی دلیل نہیں بنتا۔
- قرآن پڑھنا اسی وقت فائدہ دیتا ہے جب وہ دل اور عمل تک پہنچے۔
