صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۳ - خوارج والی روایت کی تائید
خوارج کی حدیث: مختلف سند سے وہی مضمون
صحیح مسلم : ۲۴۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۶۳
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ،
اعمش سے اس سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث کی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ اعمش سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت آئی ہے۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع بھی خوارج کی نشانیاں، قرآن کا صرف زبان تک رہ جانا، اور دین سے نکل جانے والی بات ہے جو پہلے متن میں گزری۔ یہاں ایک اہم تعلیمی پہلو یہ ہے کہ محدثین صرف معنی بیان نہیں کرتے، بلکہ سند اور الفاظ کے فرق کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ عام پڑھنے والے کے لیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ حدیث کو جلدی میں الگ واقعہ نہ سمجھے، بلکہ دیکھے کہ یہ اسی مضمون کی دوسری روایت ہے۔ خوارج کی حدیث میں یہی احتیاط علمی انداز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے بھی نقل ہو سکتا ہے۔
- حدیث سمجھتے وقت پچھلی اور اگلی روایت کا تعلق دیکھنا چاہیے۔
- خوارج کے بارے میں بات کرتے ہوئے متن کے الفاظ تک رہنا بہتر ہے۔
