صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۴ - خوارج کی روایت میں لفظی فرق

خوارج کی حدیث میں لفظی فرق: روایت کو صحیح طرح پڑھنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۶۴

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا " يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .

‏‏‏‏ اعمش سے اس سند سے وہی روایت مروی ہے اور اس میں یہ مضمون نہیں ہے کہ ”وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۴ کا خلاصہ

اس روایت میں وہی مضمون اسی سند سے آیا ہے، لیکن متن صاف بتاتا ہے کہ اس روایت میں یہ جملہ موجود نہیں کہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکلتا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے، کیونکہ حدیث پڑھتے ہوئے ہر روایت کے الفاظ کو الگ پہچاننا ضروری ہے۔ خوارج کی حدیث میں کئی جگہ ملتے جلتے الفاظ آتے ہیں، مگر ہر سند میں لفظوں کا فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس حدیث سے سبق ملتا ہے کہ دینی بات نقل کرتے وقت ایک لفظ بھی اپنی طرف سے شامل نہ کیا جائے۔ یہاں اصل پیغام خوارج کے بارے میں پچھلی روایت کا تسلسل ہے، ساتھ ہی متن کے فرق کی حفاظت بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کے الفاظ میں کمی بیشی اپنی طرف سے نہیں کرنی چاہیے۔
  • محدثین روایت کے لفظی فرق کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
  • خوارج کے باب میں بات کرتے وقت ہر روایت کے اصل الفاظ دیکھنے چاہییں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں