صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۵ - خوارج کی خاص نشانی
خوارج کی نشانی: ناقص ہاتھ والے شخص کا ذکر
صحیح مسلم : ۲۴۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۶۵
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : ذَكَرَ الْخَوَارِجَ ، فَقَالَ : " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : قُلْتُ : " آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " قَالَ : " إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " ،
علی بن ابی طالب روایت:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا خوارج کا اور فرمایا: ”ان میں ایک شخص ہو گا جس کا ہاتھ ناقص ہو گا یا پستان زن کے برابر ہو گا اور کہا: اگر تم فخر نہ کرو تو میں بیان کروں جس کا وعدہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے قتل کرنے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا: تم نے سنا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے؟ انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے رب کعبہ کی! ہاں قسم ہے رب کعبہ کی! ہاں قسم ہے رب کعبہ کی!۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں ایک ایسا شخص ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا، یا اس کے ہاتھ کی شکل عورت کے پستان جیسی ہوگی۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کے فخر میں پڑ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو وہ اس اجر کی بات بیان کرتے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زبان سے ان کے قتل کرنے والوں کے لیے وعدہ کیا گیا۔ راوی نے جب پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات محمد صلى الله عليه وسلم سے خود سنی ہے؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین بار رب کعبہ کی قسم کھا کر ہاں کہا۔ اس روایت کا اصل موضوع خوارج کی خاص نشانی اور حدیث سننے کی پختہ گواہی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی خبر بیان کرتے وقت سننے کی گواہی واضح ہونی چاہیے۔
- حدیث میں خوارج کے ایک خاص شخص کی جسمانی نشانی بیان ہوئی ہے۔
- حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فخر کے اندیشے کی وجہ سے بات کو محتاط انداز میں بیان کیا۔
