صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۶ - شبہ سے بچنا
شبہ سے بچنا: صدقہ کی کھجور کا اندیشہ
صحیح مسلم : ۲۴۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۶
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي ، فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ، ثُمَّ أَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ، فَأُلْقِيهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے گھر جاتا ہوں اور اپنے بچھونے پر کھجور پڑی پاتا ہوں اور اٹھاتا ہوں کہ کھاؤں پھر ڈرتا ہوں کہ صدقہ کی نہ ہو اور پھینک دیتا ہوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی احتیاط بیان فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم اپنے گھر جاتے، بچھونے پر کھجور پڑی پاتے، اسے کھانے کے لیے اٹھاتے، پھر یہ اندیشہ ہوتا کہ کہیں یہ صدقہ کی نہ ہو، تو اسے پھینک دیتے۔ اس حدیث کا موضوع شبہ سے بچنا اور صدقہ کے مال میں احتیاط ہے۔ یہاں کھجور کوئی بڑی چیز نہیں تھی، مگر چونکہ صدقہ آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے جائز نہ تھا، اس لیے شبہ آتے ہی آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں احتیاط صرف بڑے معاملات میں نہیں، چھوٹی چیزوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ مگر اس سے اپنی طرف سے سختی گھڑنا نہیں، بلکہ اسی واقعہ کی حد میں ورع اور احتیاط سمجھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شبہ پیدا ہو تو آدمی احتیاط کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
- صدقہ کے مال کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے بہت احتیاط فرمائی۔
- چھوٹی چیز بھی شرعی حد سے متعلق ہو تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے۔
