صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۷ - صدقہ کے شبہ میں احتیاط
صدقہ کے شبہ میں کھجور چھوڑ دینا: نبی صلى الله عليه وسلم کی احتیاط
صحیح مسلم : ۲۴۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۷
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي ، فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ، أَوْ فِي بَيْتِي ، فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ، أَوْ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأُلْقِيهَا " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مزید واضح لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے گھر لوٹتا ہوں، اپنے بچھونے یا گھر میں کھجور پڑی پاتا ہوں، اسے کھانے کے لیے اٹھاتا ہوں، پھر ڈرتا ہوں کہ شاید یہ صدقہ کی ہو یا صدقہ میں سے ہو، تو اسے پھینک دیتا ہوں۔ یہاں اصل موضوع شبہ سے بچنا ہے، خاص طور پر اس چیز میں جو آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے جائز نہ تھی۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر پائی ہوئی چیز ہمیشہ چھوڑ دی جائے، بلکہ خاص وجہ بیان ہوئی: صدقہ کا اندیشہ۔ اس لیے صحیح سمجھ یہی ہے کہ مال کے بارے میں احتیاط ہو، اور جس چیز کے بارے میں شرعی رکاوٹ کا گمان ہو، اسے آسانی سے نہ لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ کا شبہ ہو تو احتیاط کرنا بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں وجہ صاف بیان ہے: یہ اندیشہ کہ کھجور صدقہ کی ہو۔
- دینی بات سمجھتے وقت واقعہ کی خاص وجہ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
