صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۸ - صدقہ کے اندیشے میں ورع

اگر صدقہ کی نہ ہوتی تو کھا لیتا: احتیاط کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۸

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صدقہ کی نہ ہوتی تو میں کھا لیتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک کھجور پائی، پھر فرمایا: اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔ اس جملے میں بہت سادہ مگر گہرا سبق ہے۔ کھجور کھانے کی چیز تھی، اور اسے ضائع کرنے کا معاملہ بھی سامنے تھا، لیکن صدقہ کا احتمال آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے نہ کھایا۔ اس حدیث کا اصل موضوع ورع، یعنی شبہ والی چیز سے بچنا، اور صدقہ کے مال میں احتیاط ہے۔ متن میں صرف ایک کھجور کا ذکر ہے، اس لیے اس سے بڑی بڑی بحثیں اپنی طرف سے نہیں نکالنی چاہییں۔ بس یہی سمجھ کافی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم صدقہ کے احتمال میں بھی احتیاط فرماتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شبہ والی چیز سے بچنا دین داری کا ایک نرم اور محتاط انداز ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے صدقہ کے احتمال کی وجہ سے کھجور نہ کھائی۔
  • حدیث سے بات اسی حد تک لینی چاہیے جتنی متن میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں