صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۹ - راستے کی کھجور اور صدقہ
راستے کی کھجور: صدقہ کے شبہ میں احتیاط
صحیح مسلم : ۲۴۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۹
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستہ میں پڑی ہوئی کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور کے پاس سے گزرے، تو فرمایا: اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔ یہاں واقعہ گھر کا نہیں بلکہ راستے کا ہے، مگر اصل بات وہی ہے: صدقہ کا احتمال۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے کھجور کو اس وجہ سے نہ کھایا کہ کہیں وہ صدقہ میں سے نہ ہو، کیونکہ صدقہ آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے جائز نہیں تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال و حرام کی حد ایک چھوٹی کھجور میں بھی قابل توجہ ہے۔ مگر اس کو عام پائی ہوئی چیزوں پر بغیر وجہ کے سختی بنانے کے بجائے، متن کی وجہ کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راستے میں ملی چیز کے بارے میں وجہ دیکھ کر احتیاط کی جا سکتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے صدقہ کے احتمال کی وجہ سے کھجور نہ کھائی۔
- چھوٹی چیز میں بھی دینی حد کا خیال رکھا گیا۔
