صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۵ - ہاتھ کے اشارے سے انتیس دن کی وضاحت

مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے: ہاتھ کے اشارے سے نبوی تعلیم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۲۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى ، فَقَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ، ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا " .

سعد بن ابی وقاص روایت:

مارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر اور فرمایا: ” کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم کر لی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۵ کا خلاصہ

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت آسان انداز میں قمری مہینہ سمجھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے، پھر تیسری مرتبہ ایک انگلی کم کر لی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین کی بات لوگوں کو ایسے طریقے سے سمجھاتے تھے جو فوراً ذہن میں بیٹھ جائے۔ آج بھی جب لوگ پوچھتے ہیں کہ اسلامی مہینہ کتنے دن کا ہوتا ہے، تو یہ حدیث صاف جواب دیتی ہے کہ کبھی انتیس اور کبھی تیس دن۔ چاند دیکھنے، رمضان اور عید کے معاملے میں یہی اصول یاد رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات کو آسان انداز میں سمجھانا نبوی طریقہ ہے۔
  • قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
  • رمضان اور عید کے فیصلوں میں قمری گنتی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں