صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۶ - دس دس اور نو دن کا اشارہ
دس، دس اور نو: انتیس دن کے قمری مہینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۵۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۲۶
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً " ،
محمد بن سعد روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے۔“ دس اور دس اور نو مرتبہ۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قمری مہینے کی مدت ہاتھ کے اشارے سے سمجھائی۔ روایت کے الفاظ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے، یعنی دس، دس اور نو۔ اس سے انتیس دن کی گنتی بنتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر رمضان، عید اور چاند دیکھنے کے مسائل میں کام آتی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مہینہ لازماً تیس دن کا ہی ہو گا، لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ اسلامی مہینہ انتیس دن پر بھی پورا ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی کمی یا عیب نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ قمری مہینہ چاند کے حساب سے چلتا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی گنتی کو ماننا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ دس، دس اور نو کی گنتی سے انتیس دن کا ہو سکتا ہے۔
- اسلامی مہینے کو صرف عام کیلنڈر کے انداز سے نہیں سمجھنا چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اشارے سے مسئلہ آسان کر دیا۔
