صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۷ - انتیس دن کا مہینہ معنیً ثابت
قمری مہینہ انتیس دن: ایک ہی معنی کی تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۲۵۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۲۷
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا .
مذکورہ بالا حدیث معناً اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اصل مضمون یہی ہے کہ قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی گنتی کو اشارے سے سمجھایا، جس میں تیسری بار ایک انگلی کم کی گئی یا دس، دس اور نو کا مفہوم بیان ہوا۔ اس طرح سننے والے کے لیے بات بالکل واضح ہو گئی کہ اسلامی مہینہ ہمیشہ تیس دن کا نہیں ہوتا۔ یہ بات خاص طور پر رمضان کے چاند، عید کے چاند اور مہینے کے ختم ہونے کے معاملے میں اہم ہے۔ حدیث کا انداز بہت آسان ہے: دین کی بات سمجھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو اصل مانا جائے، نہ کہ صرف اپنی عادت یا اندازے کو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مختلف سندوں سے ایک ہی شرعی معنی کی تائید ہو سکتی ہے۔
- قمری مہینہ انتیس دن پر بھی ختم ہو سکتا ہے۔
- رمضان اور عید کے مسائل میں نبوی گنتی کو سمجھنا ضروری ہے۔
