صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۸ - ہر علاقے کی رویت ہلال کا مسئلہ
رویت ہلال کی حدیث: ہر علاقے کے چاند کا اعتبار
صحیح مسلم : ۲۵۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۲۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا ، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ؟ " ، فَقُلْتُ : " رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ " ، فَقَالَ : " أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ " ، فَقُلْتُ : " نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ " ، فَقَالَ : " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ " ، فَقُلْتُ : " أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ " ، فَقَالَ : " لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي .
کریب روایت:
کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «نَكْتَفِى» کہا یا «تَكْتَفِى»۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۸ کا خلاصہ
یہ حدیث رویت ہلال کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ کریب بیان کرتے ہیں کہ وہ شام گئے، وہاں رمضان کا چاند جمعہ کی رات دیکھا گیا، لوگوں نے روزہ رکھا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ بعد میں جب کریب مدینہ آئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے چاند کے بارے میں پوچھا۔ کریب نے بتایا کہ شام میں جمعہ کی رات چاند دیکھا گیا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نے مدینہ میں ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے، اس لیے ہم تیس روزے پورے کریں گے یا چاند دیکھ لیں گے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رویت کافی نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رویت ہلال میں علاقے کی اپنی گواہی کا بھی اعتبار رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے چاند میں مقامی رویت کا مسئلہ حدیث سے ثابت ہے۔
- صحابہ کرام چاند کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو بنیاد بناتے تھے۔
- دوسرے علاقے کی خبر سن کر بھی اپنے علاقے کی رویت کو دیکھا گیا۔
