صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۹ - چاند جس رات دیکھا جائے اسی رات کا ہے
رویت ہلال: چاند جس رات دیکھا جائے اسی رات کا شمار ہو گا
صحیح مسلم : ۲۵۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ ، قَالَ : تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ ، قَالَ : فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْنَا : إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ ، فَقَالَ : أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ ؟ ، قَالَ : فَقُلْنَا : لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ ، فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ " .
ابوالبختری روایت:
ہم عمرہ کو نکلے اور جب بطن نخلہ پہنچے (ایک مقام کا نام ہے) تو سب نے چاند دیکھنا شروع کیا اور بعض نے دیکھ کر کہا کہ یہ تین رات کا چاند ہے (یعنی بڑا ہونے کے سبب سے) اور بعض نے کہا: دو رات کا ہے پھر ملے ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ان سے ذکر کیا کہ ہم نے چاند دیکھا اور کسی نے کہا: تین رات کا ہے اور کسی نے کہا: دو رات کا ہے تب انہوں نے پوچھا کہ تم نے کون سی رات میں دیکھا؟ تو ہم نے کہا: فلاں فلاں رات میں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالٰی نے اس کو بڑھا دیا دیکھنے کے لیے اور وہ اسی رات کا تھا جس رات تم نے دیکھا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوالبختری کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ وہ عمرہ کے لیے نکلے۔ بطن نخلہ کے مقام پر لوگوں نے چاند دیکھا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ تین رات کا چاند ہے، کچھ نے کہا دو رات کا ہے۔ جب انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے پوچھا کہ تم نے کس رات اسے دیکھا؟ جب رات بتائی گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنے کے لیے بڑھا دیا، پس وہ اسی رات کا ہے جس رات تم نے دیکھا۔ اس حدیث سے رویت ہلال کا ایک سادہ اصول سمجھ آتا ہے: چاند کے بڑا یا موٹا نظر آنے سے پچھلی تاریخ نہیں لگائی جائے گی۔ اعتبار اس رات کا ہے جس رات چاند دیکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چاند جس رات دیکھا جائے، اسی رات کا شمار کیا جائے گا۔
- چاند کے بڑا نظر آنے سے اسے دو یا تین رات کا قرار دینا ضروری نہیں۔
- رویت ہلال میں ظن کے بجائے دیکھنے کی رات کا اعتبار ہے۔
